ہیں سردیاں پلٹنے کو

sardian-urdu

ہیں سردیاں پلٹنے کو
اب تم بھی پلٹنے کا سوچو
تنہا گزرے کتنے موسم
تم لوٹے نہ میرے ھمدم
جن پر ھم سنگ سنگ چلتے تھے
وہ راہیں ادھوری ھیں جاناں
والہانہ لپٹنے کو تم سے۔۔۔
میری بانہیں ادھوری ھیں جاناں
میری آنکھیں رستہ تکتی ہیں
اب پتھر بھی ہو سکتی ہیں
اب اِتنا مجھے ستاٶ نہ
تم جلدی لوٹ کے آٶ نا
ہیں سردیاں پلٹنے کو
اب تم بھی پلٹنے کا سوچو
(طارق اقبال حاوی)​

خزاں خرِید کے لائے ہیں اُس کا سُود بہار 

bahar-shayari

خزاں خرِید کے لائے ہیں اُس کا سُود بہار
مگر لبوں پہ رکھی اُس کے باوجُود بہار

نظر میں سایہ تھا وہ بھی ہُؤا ہے اب معُدوم
کہِیں ثمُودؔ ہے یار و کہِیں پہ ہُود بہار

فراخ دِل تھے جو کچّے گھروں میں رہتے تھے
چمن میں بچپنا خُوشبُو تھا کھیل کُود بہار

مزید پڑھیں […]