محبت کا اشارہ کر لو

سنو
عداوتوں سے کنارہ کر لو
خوشی کو اپنا سہارا کر لو
جہاں ملے تھے ہَم دونوں
جہاں خواب بوئے تھے
جہاں سے حد گزرتی تھے
میرے تمھارے محبت کی
اسی مقام سے ایک بار پھر
وہی سفر دوبارہ کرلو
سنو
محبت کا اشارہ کر لو

روزنِ دِیوار میں

کُچھ نہِیں پایا ہے ہم نے اِس بھرے سنسار میں
پُھول سے دامن ہے خالی گر چہ ہیں گُلزار میں

پِھر محبّت اِس طرح بھی اِمتحاں لیتی رہی
جیب خالی لے کے پِھرتے تھے اِسے بازار میں

ہم نے ہر ہر بل کے بدلے خُوں بہایا ہے یہاں
تب کہِیں جا کر پڑے ہیں پیچ یہ دستار میں

مزید پڑھیں […]