مجھ پہ نظریں جمائے

aamir-imtiaz-nazam

مجھ پہ نظریں جمائے
کچھ سوچتے ہوئے
اپنے ناخنوں کو
دانتوں سے کاٹتے ہوئے
سامنے کھڑی
وہ ایک دم
رو پڑی
کہ جیسے
"وہ سمجھ گئی ہو”
میرے سب ارادوں کو
میرے سب دردوں کو

موج دریا بھی خاموش تھی

موج دریا بھی خاموش تھی
فضا بھی اداس تھی
سکوت تھا ہر طرف پیاس تھی
ان سب کی وجہ ایک ہی بات تھی
وہ رات جدائی کی رات تھی
میں بضد تھی اسے روکنے پر
وہ بھی اڑا رہا جانے پر
ختم کیسے ہوتی بات
اس کو پیاری اس کی انا تھی

شفق