ساری زندگی ماں کے نام کرتا ہوں

maan ke naam

ساری زندگی ماں کے نام کرتا ہوں
میں خود کو ماں کا غلام کرتا ہوں
جنہوں نے کی زندگی اولاد پہ نثار
جو ہیں مائیں ان کو سلام کرتا ہوں
جہاں دیکھتا ہوں لفظ ماں لکھا ہوا
چومتا ہوں اس کا احترام کرتا ہوں
میری زباں کو مل جاتی ہے مٹھاس
جب بھی ماں سے کلام کرتا ہوں

ماں پھر آکے لوری سنا جاتی ہے چپکے چپکے

Mother-Poetry-chupke chupke

وہ دل میں چلی آتی ہے چپکے چپکے
کچھ بھول بھی جاوٴں تو بتا جاتی ہے چپکے چپکے
بارہا ایسا بھی ہو محفل میں
ماں مجھے چوم جاتی ہے چپکے چپکے
کاش تجھے مل کے بتا پاوٴں
یاد تیری کتنا رلاتی ہے مجھے چپکے چپکے
اپنے بچوں میں الجھ کر اُڑ جاتی ہے میری نیند
ماں پھر آکے لوری سنا جاتی ہے چپکے چپکے

ذرا سی چوٹ لگے، تو وہ آنسو بہا دیتی ہے

mothery poetry maan

ذرا سی چوٹ لگے، تو وہ آنسو بہا دیتی ہے
اپنی سکون بھری گود میں سلا دیتی ہے

کرتے ہیں خفا ہم جب تو چٹکی میں بھلا دیتی ہے
ہو تے ہیں خفا ہم جب، تو دنیا کو بھلا دیتی ہے

مت گستاخی کرنا لوگو! اس ماں سے کیونکہ
جب وہ چھوڑ کے جاتی ہے تو کبھی لوٹ کے نہیں آتی