میں تیرے سنگ ابھی اور چل نہِیں سکتا

urdu ghazal poetry

میں تیرے سنگ ابھی اور چل نہِیں سکتا
لِکھا گیا جو مُقدّر میں ٹل نہِیں سکتا

ہر ایک گام پہ کانٹوں کا سامنا تو ہے
چُنا جو راستہ، رستہ بدل نہِیں سکتا

میں بُھوک جھیل کے فاقوں سے مر تو سکتا ہُوں
ٗملیں جو بِھیک میں ٹُکڑوں پہ پل نہِیں سکتا

قسم جو کھائی تو مر کر بھی لاج رکھ لُوں گا
کہ راز دوست کا اپنے اُگل نہِیں سکتا

مزید پڑھیں […]

گھر میں رہتے ہوئے غیروں کی طرح ہوتی ہیں

munawar rana poetry - 9

گھر میں رہتے ہوئے غیروں کی طرح ہوتی ہیں
لڑکیاں دھان کے پودوں کی طرح ہوتی ہیں

اڑ کے اک روز بہت دور چلی جاتی ہیں
گھر کی شاخوں پہ یہ چڑیوں کی طرح ہوتی ہیں

سہمی سہمی ہوئی رہتی ہیں مکان دل میں
آرزوئیں بھی غریبوں کی طرح ہوتی ہیں

مزید پڑھیں […]