تمہیں کسی اور کا اور ہمیں تمہارا کردیا

معاشرے کی بندشوں نے ہمیں ناکارہ کر دیا
تمہیں کسی اور کا اور ہمیں تمہارا کردیا

تو خود تو ہو گئی پاکیزگی کا پیکر
لوگوں کے سامنا ہمیں آوارہ کر دیا

اب کچھ نہیں بچا اس حقیر کی جھولی میں
دل ہی تھا وہ بھی تیرے نام سارا کا سارا کر دیا

تیری بے وفائی کی میں کیا داد دوں کہ
مجھے بھی ساتھ رکھا اور اسے بھی اشارہ کر دیا

اس نے محبت کی یہ کہانی بنا کر انس
عاشق اور عشق دونوں کو بے سہارا کر دیا