تمہیں کسی اور کا اور ہمیں تمہارا کردیا

معاشرے کی بندشوں نے ہمیں ناکارہ کر دیا
تمہیں کسی اور کا اور ہمیں تمہارا کردیا

تو خود تو ہو گئی پاکیزگی کا پیکر
لوگوں کے سامنا ہمیں آوارہ کر دیا

اب کچھ نہیں بچا اس حقیر کی جھولی میں
دل ہی تھا وہ بھی تیرے نام سارا کا سارا کر دیا

تیری بے وفائی کی میں کیا داد دوں کہ
مجھے بھی ساتھ رکھا اور اسے بھی اشارہ کر دیا

اس نے محبت کی یہ کہانی بنا کر انس
عاشق اور عشق دونوں کو بے سہارا کر دیا

اُسکا چہرہ بھی ہے اُسی کی طرح مغرور

masjid main na milay

اُسکا چہرہ بھی ہے اُسی کی طرح مغرور
کوئی دیکھے تو کیسے وہ رہتا ہے سب سے دور

لگتا ہے ھو بہ ھو اُسی تجلی جیسا
جس سے جل گیا ہو گا کوہِ طور

مُلّا نے پڑھی نمازیں اور کیا چہرہ روشن
روشن اُس جیسا جو چھلکتا ہے اُسکی پیشانی سے نور

مسجد میں نہ ملے تو ساقی کی نظر سے شیخ
دیکھنا اُسکی انکھوں میں خدا ملے گا ضرور

وہ چہرہ تھا رو بہ رو میرے، چھوا نہ اُسے
اسے شرافت کہو یا کہہ دو بندہ تھا مجبور

آج تھی ضرورت کسی یار کی

kisi yaar ki

آج تھی ضرورت کسی یار کی
کسی اپنے کسی غم خار کی

کس تڑپ میں بہے آنسو
کمی تھی شاید پیار کی

ڈھونڈا حل اُنکی مشکلات کا
شیخ ہوتے تو بات تھی اختیار کی

بھول کر موت، مانگی خیر اُنکی
ہفتہ وار کی عبادت پروردگار کی

نعمانؔ مانگتا اپنے لیے تو مل جاتا
مگر ازمائش تھی دلِ بےقرار کی

چل اڑ جا رے پنچھی

چل اڑ جا رے پنچھی کہ اب یہ دیس ہوا بے گانہ
چل اڑ جا رے پنچھی۔۔۔

ختم ہوئے دن اس ڈالی کے جس پر تیرا بسیرا تھا
آج یہاں اور کل ہو وہاں یہ جوگی والا پھیرا تھا
یہ تیری جاگیر نہیں تھی چار گھڑی کا ڈیرا تھا
سدا رہا ہے اس دنیا میں کس کا آب و دانہ
چل اڑ جا رے پنچھی کہ اب یہ دیس ہوا بے گانہ
چل اڑ جا رے پنچھی۔۔۔

مزید پڑھیں […]

اک بُرائی کے آسیب میں ہوں مُبتلا

unke khat

اک بُرائی کے آسیب میں ہوں مُبتلا
ڈھونڈتا ہوں وہی چہرہ، جو نہ ملا

رشک اُس پر، جس نے پایا اُنھیں
اُنکے چاہنے والوں سے کیا گِلا

اس غم میں صرف میں نہیں ساقی
آج محفل میں زاہد کو بھی پِلا

ریشم سے نازک محبت کی قبا
جو پھٹے اک بار دوبارہ نہ سلا

گل فروش کے باغ میں بہار آئی
کوئی تو بچائے! گُلاب کھلا

یاد کرنے ہیں اُنکے عہد سبھی
خُدارا نعمان، خط ابھی نہ جلا

سال ہہ سال گزارتے یادِ جاناں میں ہم

yaad-e janaan

سال ہہ سال گزارتے یادِ جاناں میں ہم
خود کو رہے اُجاڑتے یادِ جاناں میں ہم

مشکل نہ ہو یاد کرنے میں، جونؔ کی طرح
اسکا چہرہ رہے اُبھارتے یادِ جاناں میں ہم

اس شہرِ بیابان میں، دیکھ کر موت اپنی
بھاگے جاناں جاناں پُکارتے یادِ جاناں میں ہم

روئے مورخ کے سامنے، سسک سسک کر بادشاہ
اپنی شاہی کا لبادہ اُتارتے یادِ جاناں میں ہم

بیٹھے وہ مغرور سامنے، لیے انا ہم ساتھ میں
دیکھتے اُنھیں، کسی کا بت نکھارتے یادِ جاناں میں ہم