مواد پر جائیں
SadPoetry

ابنِ انشا کی شاعری

1927 - 1978

ابنِ انشا، جن کا اصل نام شیر محمد خان تھا، شاعر اور مزاحیہ سفرنامہ نگار تھے۔ ان کی غزل 'انشا جی اٹھو اب کوچ کرو' اردو کا شاہکار ہے۔ ذیل میں ان کا منتخب کلام پڑھیے اور تصاویر شیئر کیجیے۔

  1. جب شہر کے لوگ نہ رستا دیں کیوں بن میں نہ جا بسرام کرے — ابنِ انشا
  2. کل چودھویں کی رات تھی، شب بھر رہا چرچا تیرا — ابنِ انشا
  3. اہل وفا سے ترک تعلق کر لو پر اک بات کہیں — ابنِ انشا
  4. ایک دن دیکھنے کو آ جاتے — ابنِ انشا
  5. اک سال گیا اک سال نیا ہے آنے کو — ابنِ انشا
  6. کوچے کو تیرے چھوڑ کر جوگی ہی بن جائیں مگر — ابنِ انشا
  7. رات آ کر گزر بھی جاتی ہے — ابنِ انشا
  8. یہ تو کہو کبھی عشق کیا ہے، جگ میں ہوئے ہو رُسوا کبھی — ابنِ انشا
  9. دل ہجر کے درد سے بوجھل ہے اب آن ملو تو بہتر ہو — ابنِ انشا
  10. ہم بھول سکے ہیں نہ تجھے بھول سکیں گے — ابنِ انشا
  11. وہ راتیں چاند کے ساتھ گئیں وہ باتیں چاند کے ساتھ گئیں — ابنِ انشا
  12. ایک سے ایک جنوں کا مارا اس بستی میں رہتا ہے — ابنِ انشا
  13. پِھر ان کی گلی میں جائے گا ، پِھر سہو کا سجدہ کر لے گا — ابنِ انشا
  14. کل چودھویں کی رات تھی شب بھر رہا چرچا ترا — ابنِ انشا
  15. وہ شام وہ رخصت کا سماں یاد رہے گا — ابنِ انشا
  16. انشاؔ جی اٹھو اب کوچ کرو اس شہر میں جی کو لگانا کیا — ابنِ انشا
  17. اپنی زباں سے کچھ نہ کہیں گے چپ ہی رہیں گے عاشق لوگ — ابنِ انشا
  18. ہم لوگ تو ظُلمت میں جِینے کے بھی عادی ہیں — ابنِ انشا
  19. ایک چھوٹا سا لڑکا تھا میں جن دنوں — ابنِ انشا
  20. وعدہ تو کیا ہے مگر ایفا نہ کریں گے — ابنِ انشا
مزید 20 دکھائیں

24 میں سے 20 دکھائے جا رہے ہیں