خموش صُبحیں، اُداس شامیں، تِرا پتہ مُجھ سے پُوچھتی ھیں

rasheed hasrat urdu shayari

خموش صُبحیں، اُداس شامیں، تِرا پتہ مُجھ سے پُوچھتی ھیں
بتاؤں اب کیا کہ یِہ فضائیں پلٹ کے کیا مُجھ سے پُوچھتی ھیں

اُداس چِڑییں جو دِن کو دانے کی کھوج میں تِھیں، ھیں لوٹ آئی
کہاں ھے شاخ شجر کہ جِس پر تھا گھونسلہ مُجھ سے پُوچھتی ھیں

تُمہیں تو صحرا نوردیوں میں کمال ھے، کُچھ ھمیں بتاؤ مزید پڑھیں […]

سمجھنے سے نہ سمجھانے سے ہو گا

سمجھنے سے نہ سمجھانے سے ہو گا
مُعمّہ حل تِرے آنے سے ہو گا

ہتھیلی پر کوئی جاں لے کے آئے
(نہِیں مُمکن- (یہ دِیوانے سے ہو گا

نشہ مُجھ کو شرابوں سے نہیں ہے
گِلہ مئے سے نہ پیمانے سے ہوگا

مِرا دِل ہے کِسی بچّے کے جیسا مزید پڑھیں […]

بِچھڑ کے تُجھ سے اے صنم جو شاد ھو سکے نہِیں

بِچھڑ کے تُجھ سے اے صنم جو شاد ھو سکے نہِیں
ھزار شُکر تیری آنکھ کے دیّےبُجھے نہِیں

انا کی دوڑ میں سدا کو پیش پیش ھم رہے
یہ اپنے ہاتھ کا لِکھا، گِلہ نصیب سے نہِیں

کِسی کے ہجر میں مُجھے اِک ایسا مُعجزہ ھُؤا
خزاں میں رکھ رہے تھے جو اب ایسے سِلسِلے نہِیں

لکھے ہیں لفظ جو فقط اُسی کے نام کے لِکھے
اُسی کے نام کے ہیں حرف جو ابھی لِکھے نہِیں

جہاں پہ چھوڑ کر گیا تھا تُو وہِیں کھڑے رہے
ھزار آندھیاں چلِیں مگر قدم ہٹے نہِیں

کِتابِ وقت کے ورق رشِیدؔ اُلٹ کے دیکھ لے
یہ ضبط کا ھے اِمتحاں اگرچِہ حوصلے نہیں۔

رشِید حسرتؔ۔

اگرچہ دُشوار تھا مگر زیر کر لِیا تھا

rasheed hasrat poetry

اگرچہ دُشوار تھا مگر زیر کر لِیا تھا
انا کا رستہ سہل سمجھ کر جو سر لِیا تھا

وُہ کہکشاؤں کی حد سے آگے کہیں بسا ھے
طلب میں جِس کی زمِیں پہ بوسِیدہ گھر لِیا تھا

گُلوں کی چاہت میں ایک دِن کیا بِچھایا ھوگا
کہ ھم نے کانٹوں سے اپنا دامان بھر لِیا تھا

بڑھایا اُس نے جو گرم جوشی سے ھاتھ یارو مزید پڑھیں […]

سُکوں وہ لے گیا تھا ساتھ، اب آرام کھو بیٹھے

urdu ghazal

سُکوں وہ لے گیا تھا ساتھ، اب آرام کھو بیٹھے
یہ کِس سے پڑ گیا پالا کہ دِل سے ہاتھ دھو بیٹھے

پریشاں ڈُھونڈتے پِھرتے ہیں بچّے بُوڑھے بابا کو
اُدھر وقتوں کے قِصّوں میں ہیں گُم سُم یار دو بیٹھے

بڑوں کے فیصلوں کو ٹال کر کرتے تھے من مانی
ابھی ہم رو رہے ہیں دوستو تقدِیر کو بیٹھے

"نشِستیں تو نہیں ہوتی ہیں بزمِ یار میں مخصُوص”
کہاں اُٹھتے ہیں قُربِ یار میں اِک بار جو بیٹھے

رِہائی زلف سے محبوب کی ہم نے تو پالی تھی
نہیں تھی اُٹھ کے جانے کی ذرا بھی تاب، سو بیٹھے

کِسی نے لوٹ آنے میں ذرا سی دیر کر ڈالی
پلٹ آیا ہے وہ، ہم جس گھڑی اوروں کے ہو بیٹھے

ابھی تک یاد آتا ہے بِچھڑنے کا کوئی منظر
بہت چاہا کریں ہم ضبط، پر آنکھیں بِھگو بیٹھے

کھڑے ہم ایک مُدّت دل کے زخموں کے مداوے کو
اُٹھا ارمان کا اِک نا روا طُوفان تو بیٹھے

رشید حسرتؔ جہاں تک زِندگی ہے، آرزُوئیں ہیں
یہاں ہم اُٹھ گئے اے دوستو ارمان وہ بیٹھے

رشید حسرتؔ