بِتا تو دی ہے مگر زِیست بار جیسی تھی

rasheed hasrat shayari

بِتا تو دی ہے مگر زِیست بار جیسی تھی
تمام عُمر مِری اِنتظار جیسی تھی

حیات کیا تھی، فقط اِنتشار میں گُزری
گہے تھی زخم سی گاہے قرار جیسی تھی

مِلا ہُؤا مِری چائے میں رات کُچھ تو تھا
کہ شب گئے مِری حالت خُمار جیسی تھی

مزید پڑھیں […]

مُجھے ایسے تُمہیں نا آزمانا چاہِیے تھا

rasheed-hasrat

مُجھے ایسے تُمہیں نا آزمانا چاہِیے تھا
بتا کر ہی تُمہارے شہر آنا چاہِیے تھا

مِرے ہر ہر قدم پر شک کی نظریں ہیں تُمہاری
تُمہیں تو رُوٹھنے کا بس بہانا چاہِیے تھا

مِرے بچّے گئے ہیں کل سے پِکنِک کا بتا کر
نہِیں آئے ابھی تک، اُن کو آنا چاہِیے تھا

مزید پڑھیں […]

خزاں خرِید کے لائے ہیں اُس کا سُود بہار 

bahar-shayari

خزاں خرِید کے لائے ہیں اُس کا سُود بہار
مگر لبوں پہ رکھی اُس کے باوجُود بہار

نظر میں سایہ تھا وہ بھی ہُؤا ہے اب معُدوم
کہِیں ثمُودؔ ہے یار و کہِیں پہ ہُود بہار

فراخ دِل تھے جو کچّے گھروں میں رہتے تھے
چمن میں بچپنا خُوشبُو تھا کھیل کُود بہار

مزید پڑھیں […]