-
سمجھنے سے نہ سمجھانے سے ہو گا مُعمّہ حل تِرے آنے سے ہو گا
-
ہتھیلی پر کوئی جاں لے کے آئے (نہِیں مُمکن- (یہ دِیوانے سے ہو گا
-
نشہ مُجھ کو شرابوں سے نہیں ہے گِلہ مئے سے نہ پیمانے سے ہوگا
-
مِرا دِل ہے کِسی بچّے کے جیسا یہ خُوش ہو گا تو بہلانے سے ہو گا
-
نہِیں اغیار سے دل کو شِکایت مگر زخمی تِرے طعنے ہو گا
-
یہاں پر کام جائز بھی ہو، جیبیں اہل کاروں کی گرمانے سے ہو گا
-
وہ راضی ہو گا تیرا دوست ہے وہ مگر چل کر تِرے جانے سے ہو گا
-
سمیٹا درد شِعروں کی شکل میں نشہ سا ماورا گانے سے ہو گا
-
رشِید حل مانگتا ہے مسئلہ جو بھلا لوگوں کو بتلانے سے ہو گا؟
-
رشِید حسرتؔ
ارسال کنندہ Rasheed Hasrat


