-
اِک شخص کے جانے سے بدل جاتی ہے دُنیا پِھر آہ بھی کرلو تو مچل جاتی ہے دُنیا
-
میں پیار کا طالب جو ہُؤا اہلِ جہاں سے زردی سی کوئی چہرے پہ مل جاتی ہے دُنیا
-
جِس جا پہ کبھی تھا میں ابھی تک بھی وہِیں ہُوں میں دیکھتا رہتا ہوں نِکل جاتی ہے دُنیا
-
حالات کِدھر جاتے ہیں جاتا ہوں کِدھر میں میں ڈُوبتا جاتا ہوں، سنبھل جاتی ہے دُنیا
-
کوشِش ہی نہِیں کرتی سمجھنے کی مُجھے یہ کومل سے یہ جذبات مسل جاتی یے دُنیا
-
آباد جہاں دِل کا، مگر خوف لگا ہے کیا جانِیئے کب آہ میں ڈھل جاتی ہے دُنیا
-
میں چال چلُوں، سادہ رہُوں ایک برابر شاطِر سِی مگر چال ہی چل جاتی ہے دُنیا
-
خُود حُسن کی بانہوں میں مچلنے کی تمنّا میں شعر اگر کہتا ہوں جل جاتی ہے دُنیا
-
وہ چہرۂِ خُوش رنگ رشِیدؔ اِتنا حسِیں ہے ہیں نقش و نِگار ایسے پِھسل جاتی ہے دُنیا
-
رشِید حسرتؔ
ارسال کنندہ Rasheed Hasrat


