-
بِچھڑ کے تُجھ سے اے صنم جو شاد ھو سکے نہِیں ھزار شُکر تیری آنکھ کے دیّےبُجھے نہِیں
-
انا کی دوڑ میں سدا کو پیش پیش ھم رہے یہ اپنے ہاتھ کا لِکھا، گِلہ نصیب سے نہِیں
-
کِسی کے ہجر میں مُجھے اِک ایسا مُعجزہ ھُؤا خزاں میں رکھ رہے تھے جو اب ایسے سِلسِلے نہِیں
-
لکھے ہیں لفظ جو فقط اُسی کے نام کے لِکھے اُسی کے نام کے ہیں حرف جو ابھی لِکھے نہِیں
-
جہاں پہ چھوڑ کر گیا تھا تُو وہِیں کھڑے رہے ھزار آندھیاں چلِیں مگر قدم ہٹے نہِیں
-
کِتابِ وقت کے ورق رشِیدؔ اُلٹ کے دیکھ لے یہ ضبط کا ھے اِمتحاں اگرچِہ حوصلے نہیں۔
-
رشِید حسرتؔ۔
ارسال کنندہ Rasheed Hasrat


