عشق کے دھاگوں میں پرو کے مجھے ہنسنے کا کہہ گیا ہے وہ رو کے مجھےبے چین صورت اس کی آ جاتی ہے آتا نہیں چین اب سو کے مجھے
بن گئی ہے دِل کے مجبوری ملاقاتیں ہو گئی ہے اب تو ضروری ملاقاتیں آنكھوں سے کچھ کہہ کے بچھڑ جانا جان لے لیں گی یہ ادھوری ملاقاتیں
بچھڑ گئے تو پِھر ملنے کے آس کیا رکھیں مرجھائے ہوئے پھول کھلنے کے آس کیا رکھیں لگائے ہیں جو خود اپنے ہاتھ سے انجم ان زخموں کے سلنے کی آس کیا رکھیں
جان کی بھیک مانگنے کی لیے بھی کبھی ہاتھ ہَم نے پھیلایا ہی نہیں انجم مجھ کو میرے واعظ نے سسک کر جینا سکھایا ہی نہیں
نظر ملا کے بھول گئے ہو اپنا بنا کے بھول گئے ہومیری بےبسی بھی تو دیکھو گھر جلا کے بھول گئے ہو
سراغِ منزل لیے راہِ بے نشاں کی تلاش میں کارواں بھٹک گیا میرِ کارواں کی تلاش میںامیرِ شہر ہے یہاں میمن ہے کوئی مہر ہے بے نام ہوئے لوگ فخرو گمان کی تلاش میں
حَسِین خواب دکھا کے بھول جاتے ہیں لوگ اپنا بنا کے بھول جاتے ہیں جدائی کا نام سن كے رونے والے کچھ دور جا كے بھول جاتے ہیں
تم ہو ضدی میں ہوں دیوانہ جیت کس کی ہوتی ہے تم ہو شمع میں ہوں پروانہ جیت کس کی ہوتی ہے
عشق نے ڈال دی اسکی طبعیت میں نرمی ورنہ وہ شخص تو کبھی رویا نہ تھا
انسانوں کے اِس بستی میں انسانوں کے تلاش میں ہوںبےحسی کے ردا اوڑھے۔۔۔ نیم وا حجابوں سے آنكھوں کے سرخی مائل
در چھوڑ کے سوئے دار نکلی روح مری قفس سے بیزار نکلیاک اک سانس بیچ رہی ہے زندگی موت کی خریدار نکلی
جب بھی تم سامنے آتے ہو اب کی ساری خزاں زدہ گھڑیاںگزری بہاروں میں ڈھل سی جاتی ہیں وقت کی آغوش میں سوئی ہوئی وفائیں
سنو کچھ کہنا چاہتا ہوں تمھارے دِل میں رہنا چاہتا ہوںتمہاری آنكھوں کا دیوانہ ہوں شمع حسن کا پروانہ ہوں
اِس سے پہلے كہ سال کی آخری شام تمام ہو اور تو بھی مصروف نو ایام ہواِس سے پہلے کہ میں زیست گروی رکھ دوں کسی اور کے پاساِس سے پہلے کہ تیرے ھاتھوں کا لمس تیرے لبوں کی مسیحائی اور تیرے لہجے کی پزیرائیہار دوں کہیں اور مانا دوست کہ ہجر تو اب مقدر ٹھہرامگر اِس سے پہلے کہ ہَم بچھڑ جائیں
جیا دھڑکے پر جیا نہ جائے الزام محبت کو دیا نہ جائےکام بھولے سجدے قضا ہوئے پیار کر کے کچھ کیا نہ جائےتیرا خیال بے خیال کر دے
سفر طویل تھا میرا رافیق کوئی نہ تھا میرا یہ دکھ کے دکھوں میں شریک کوئی نہ تھا حسن نثاراس کی یاد کو بنا لیتا ہوں ہمسفر اپنا
حرمتِ سگِ کوئے یار بھی ہے لازم جسے ہو انا کا خیال محبت نہ کرے
پلکیں اٹھا کر پلکیں جکایا نہ کرو بات کو یونہی تم الجھایا نہ کروزخم بدل جاتے ہیں ناسور کی صورت درد ذرا سا بھی ہو چھپایا نہ کرو
جو کسی كے راہ میں روڑے اٹکاتے ہیں حقیقت میں وہ ان کو چلنا سکھاتے ہیںکچھ وہ ہیں جو مے پینے کو ترستے ہیں کچھ وہ ہیں جنہیں ساقی خود پلاتے ہیں