اس کو جدا ہوئے بھی زمانہ بہت ہوا

اس کو جدا ہوئے بھی زمانہ بہت ہوا
اب کیا کہیں یہ قصہ پرانا بہت ہوا

ڈھلتی نہ تھی کسی بھی جتن سے شب فراق
اے مرگ ناگہاں ترا آنا بہت ہوا

ہم خلد سے نکل تو گئے ہیں پر اے خدا
اتنے سے واقعے کا فسانہ بہت ہوا

مزید پڑھیں "اس کو جدا ہوئے بھی زمانہ بہت ہوا”

اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں

urdu-ghazal

اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں
جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں

ڈھونڈ اجڑے ہوئے لوگوں میں وفا کے موتی
یہ خزانے تجھے ممکن ہے خرابوں میں ملیں

مزید پڑھیں "اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں”

تجھ سے ملنے کو کبھی ہم جو مچل جاتے ہیں

تجھ سے ملنے کو کبھی ہم جو مچل جاتے ہیں
تو خیالوں میں بہت دور نکل جاتے ہیں

گر وفاؤں میں صداقت بھی ہو شدت بھی ہو
پھر تو احساس سے پتھر بھی پگھل جاتے ہیں

اس کی آنکھوں کے نشے میں ہم جب سے ڈوبے
لڑکھڑاتے ہیں قدم اور سنبھل جاتے ہیں

اس سے جدائی کا جب بھی خیال آتا ہے
اشک رخسار پہ آنکھوں سے پھسل جاتے ہیں

پیار میں ایک ہی موسم ہے بہاروں کا
لوگ موسم کی طرح کیسے بدل جاتے ہیں

تیرے چرچے ہیں جفا سے تیری

تیرے چرچے ہیں جفا سے تیری
لوگ مر جائیں بلا سے تیری

کوئی نسبت کبھی اے جانِ سخن
کسی محرومِ نوا سے تیری

اے میرے ابرِ گریزان کب تک
راہ تکتے رہیں پیاسے تیری

تیرے مقتل بھی ہمیں سے آباد
ہم بھی زندہ ہیں دعا سے تیری

تو بھی نادم ہے زمانے سے ‘فراز‘
وہ بھی ناخوش ہیں وفا سے تیری