مواد پر جائیں
SadPoetry
دل تو وہ برگِ خزاں ہے کہ ہوا لے جائے — احمد فراز

دل تو وہ برگِ خزاں ہے کہ ہوا لے جائے

احمد فراز غزل 6 اشعار
  1. دل تو وہ برگِ خزاں ہے کہ ہوا لے جائے غم وہ آندھی ہے کہ صحرا بھی اُڑا لے جائے

  2. کون لایا تری محفل میں ہمیں ہوش نہیں کوئی آئے تری محفل سے اُٹھا لے جائے

  3. اور سے اور ہوئے جاتے ہیں معیارِ وفا اب متاعِ دل و جاں بھی کوئی کیا لے جائے

  4. جانے کب ابھرے تری یاد کا ڈوبا ہُوا چاند جانے کب دھیان کوئی ہم کو اُڑا لے جائے

  5. یہی آوارگیِ دل ہے تو منزل معلوم جو بھی آئے تری باتوں میں لگا لے جائے

  6. دشتِ غربت میں تمہیں کون پکارے گا فرازؔؔ چل پڑو خود ہی جدھر دل کی صدا لے جائے

تصحیح بتائیں

احمد فراز کا مزید کلام

تمام کلام