-
دل تو وہ برگِ خزاں ہے کہ ہوا لے جائے غم وہ آندھی ہے کہ صحرا بھی اُڑا لے جائے
-
کون لایا تری محفل میں ہمیں ہوش نہیں کوئی آئے تری محفل سے اُٹھا لے جائے
-
اور سے اور ہوئے جاتے ہیں معیارِ وفا اب متاعِ دل و جاں بھی کوئی کیا لے جائے
-
جانے کب ابھرے تری یاد کا ڈوبا ہُوا چاند جانے کب دھیان کوئی ہم کو اُڑا لے جائے
-
یہی آوارگیِ دل ہے تو منزل معلوم جو بھی آئے تری باتوں میں لگا لے جائے
-
دشتِ غربت میں تمہیں کون پکارے گا فرازؔؔ چل پڑو خود ہی جدھر دل کی صدا لے جائے



