دل تو وہ برگِ خزاں ہے کہ ہوا لے جائے

faraz ghazal

دل تو وہ برگِ خزاں ہے کہ ہوا لے جائے
غم وہ آندھی ہے کہ صحرا بھی اُڑا لے جائے

کون لایا تری محفل میں ہمیں ہوش نہیں
کوئی آئے تری محفل سے اُٹھا لے جائے

اور سے اور ہوئے جاتے ہیں معیارِ وفا
اب متاعِ دل و جاں بھی کوئی کیا لے جائے

جانے کب ابھرے تری یاد کا ڈوبا ہُوا چاند
جانے کب دھیان کوئی ہم کو اُڑا لے جائے

یہی آوارگیِ دل ہے تو منزل معلوم
جو بھی آئے تری باتوں میں لگا لے جائے

دشتِ غربت میں تمہیں کون پکارے گا فرازؔؔ
چل پڑو خود ہی جدھر دل کی صدا لے جائے

تبصرہ کریں