-
کہا تھا کس نے کہ عہدِ وفا کرو اُس سے جو یوں کِیا ہے تو پھر کیوں گلہ کرو اُس سے
-
نصیب پھر کوئی تقریبِ قرب ہو کہ نہ ہو جو دل میں ہوں، وہی باتیں کہا کرو اُس سے
-
یہ اہلِ بزم تنک حوصلہ سہی پھر بھی ذرا فسانۂ دل ابتدا کرو اُس سے
-
یہ کیا کہ تم ہی غمِ ہجر کے فسانے کہو کبھی تو اُس کے بہانے سنا کرو اُس سے
-
فرازؔ ترکِ تعلق تو خیر کیا ہو گا یہی بہت ہے کہ کم کم ملا کرو اُس سے



