کہا تھا کس نے کہ عہدِ وفا کرو اُس سے

faraz urdu ghazal

کہا تھا کس نے کہ عہدِ وفا کرو اُس سے
جو یوں کِیا ہے تو پھر کیوں گلہ کرو اُس سے

نصیب پھر کوئی تقریبِ قرب ہو کہ نہ ہو
جو دل میں ہوں، وہی باتیں کہا کرو اُس سے

یہ اہلِ بزم تنک حوصلہ سہی پھر بھی
ذرا فسانۂ دل ابتدا کرو اُس سے

یہ کیا کہ تم ہی غمِ ہجر کے فسانے کہو
کبھی تو اُس کے بہانے سنا کرو اُس سے

فرازؔ ترکِ تعلق تو خیر کیا ہو گا
یہی بہت ہے کہ کم کم ملا کرو اُس سے

تبصرہ کریں