-
تیری باتیں ہی سنانے آئے دوست بھی دل ہی دکھانے آئے
-
پھول کھلتے ہیں تو ہم سوچتے ہیں تیرے آنے کے زمانے آئے
-
ایسی کچھ چپ سی لگی ہے جیسے ہم تجھے حال سنانے آئے
-
عشق تنہا ہے سر منزل غم کون یہ بوجھ اٹھانے آئے
-
اجنبی دوست ہمیں دیکھ کہ ہم کچھ تجھے یاد دلانے آئے
-
دل دھڑکتا ہے سفر کے ہنگام کاش پھر کوئی بلانے آئے
-
اب تو رونے سے بھی دل دکھتا ہے شاید اب ہوش ٹھکانے آئے
-
کیا کہیں پھر کوئی بستی اجڑی لوگ کیوں جشن منانے آئے
-
سو رہو موت کے پہلو میں فرازؔ نیند کس وقت نہ جانے آئے



