-
تری جیسا نہیں کوئی جو چھانی یہ جہاں میں نے کہ تو ہے حور جنت کی جو لپٹی ہے حجابوں میں
-
جو کھلتا ہے ترا چہرہ تری مسکان سے تو پھر کوئی ثانی نہیں ہوتاترے جیسا گلابوں میں
-
کہیں یہ چاند شرما کر گلابوں سے چھوٹ نہ جائے اسی خاطر چھپائے رکھ تو چہرے کو نقابوں میں
-
نشہ ہے تیری آنکھوں میں اسی میں چین ہے میرا رکھا ہے میکدوں میں کیا اور رکھا کیا شرابوں میں
-
اگر تو دور ہے مجھ سےتو کوئی غم نہیں مجھ کو کہ ہوتی ہے ملن تم سے خیالوں اور خوابوں میں
-
مرا سکھ تو اسی میں ہے کہ تو دکھ دے مجھے ہر پل کو کچھ تو دے رہا ہے تو اگر چہ ہے عذابوں میں
-
محبت تو ہمیں تھی ایک دوجے سے مگر افسوس کہ ہم نے زندگی اپنے گنوائی یوں سرابوں میں
-
بھلا یہ کس طرح ممکن ہےتیرا ہمسفر ہونا مجھے اڑنا نہیں آتا، ترا مسکن عقابوں میں
-
تمہیں پانا مری منزل ہے میری کامیابی ہے رکھا ہے کیا پڑھائی میں، زمانے کی کتابوں میں
-
خدا جب پوچھتا ہے کے تجھے کیا دوں کہو انجم مرے ہونٹوں پہ تیرا نام ہوتا ہے جوابوں میں
ارسال کنندہ M. Naveed Anjum


