عشق کا اپنا غرور حسن کی اپنی انا
عشق کا اپنا غرور حسن کی اپنی انا
ان سے آیا نہ گیا ہم سے بھلایا نہ گیا
عشق کا اپنا غرور حسن کی اپنی انا
ان سے آیا نہ گیا ہم سے بھلایا نہ گیا
سنو
محبت یوں نہیں ہوتی
کسی کا نام لینے سے
کسی کو تھام لینے سے
کسی كے پاس جانے سے
کسی كے دور جانے سے
محبت کا جنم نہیں ہوتا
جب تک دلوں کا ملن نہیں ہوتا
سجدے تو سب نے کیے تیرا نیا انداز ہے
تو نے وہ سجدہ کیا جس پر خدا کو ناز ہے
کیوں چھپاتے ہو ثانی کیوں انکار کرتے ہو
تمہاری آنکھیں کہتی ہیں تم بھی پیار کرتے ہو
وچ داڑھی اسلام نہ کوئی
بن عملاں قرآن نہ کوئی
جی مکراں تو باز نہ آوے
ملاں جیہا بے ایمان نہ کوئی
جی گر پا دیوے پٹھی راہے
مرشد جیہا شیطان نہ کوئی
ثانی بس اک اودھی من لے
رب توں گاں سلطان نہ کوئی
تجھے یاد کرتے کرتے اتنی دور نکل آئے ہیں كہ
اب بشیر رکشے والا واپسی کا دو ہزار مانگ رہا ہے
غبارِ راہ سے کہہ دو سنبھالے نقشِ قدم
زمانہ ڈھونڈے گا پِھر ان کو رہبری كے لیے
پانچ دن ملے زندگی کے مگر
گزرے ہی تھے ابھی چار کہ بتی چلی گئی
کل واپڈا کے دفتر میں میٹنگ تھی کچھ خاص
ہونے لگی تکرار کہ بتی چلی گئی