محبت یوں نہیں ہوتی

سنو

محبت یوں نہیں ہوتی

کسی کا نام لینے سے
کسی کو تھام لینے سے
کسی كے پاس جانے سے
کسی كے دور جانے سے

محبت کا جنم نہیں ہوتا
جب تک دلوں کا ملن نہیں ہوتا

سنو

محبت یوں نہیں ہوتی

یہ رابطہ ہے دِل سے دِل کا
یہ نام ہے بے ترتیب دھڑکنوں کا
محبت تو آنكھوں سے بیان ہوتی ہے
یہ تو دِل کی زبان ہوتی ہے

سنو
محبت یوں نہیں ہوتی

تبصرہ کریں