سمندر میں اترتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
سمندر میں اترتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
تیری آنكھوں کو پڑھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
تمہارا نام لکھنے کی اجازت چھن گئی جب سے
کوئی بھی لفظ لکھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
سمندر میں اترتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
تیری آنكھوں کو پڑھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
تمہارا نام لکھنے کی اجازت چھن گئی جب سے
کوئی بھی لفظ لکھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
جی تو کرتا ہے اسے مفت میں جان دے دوں
فراز اتنے معصوم خریدار سے کیا لینا دینا
عجب دیوار اک دیکھی ہے میں نے آج رستے میں
نہ کچھ دیوار كے آگے نہ کچھ دیوار كے پیچھے
بڑے نمناک سے ہوتے ہیں انور قہقہے تیرے
کوئی دیوار گریہ ھے ترے اشعار کے پیچھے
اب كے پِھر عید کارڈ میں اس نے
لفظ اک بے دھیان لکھا ہے
پِھر میری عید کرکری کر دی
پِھر مجھے بھائی جان لکھا ہے
استاد نے شاگرد سے اک روز یہ پوچھا
ہے جمعه مبارک کی فضیلت کا تجھے علم
کہنے لگا شاگرد كے معلوم ہے مجھ کو
ریلیز اسی روز تو ہوتی ہے نئی فلم
اسے میں نے دیکھا
تو سوچا ، کہہ اب چاند نے
اپنے سورج سے
لو مانگنا چھوڑ دی ہے
جو بارش کی تمنا ہے تو ان آنکھوں میں آ بیٹھو
وہ برسوں میں کہیں برسیں یہ برسوں سے برستی ہے
اب وہی حرف جنوں سب کی زبان ٹھہری ہے
جو بھی چل نکلی ہے وہ بات کہاں ٹھہری ہے
آج تک شیخ كے اکرام میں جو شے تھی حرام
اب وہی دشمن دین، راحت جان ٹھہری ہے