اب وہی حرف جنوں سب کی زبان ٹھہری ہے

اب وہی حرف جنوں سب کی زبان ٹھہری ہے
جو بھی چل نکلی ہے وہ بات کہاں ٹھہری ہے

آج تک شیخ كے اکرام میں جو شے تھی حرام
اب وہی دشمن دین، راحت جان ٹھہری ہے

تبصرہ کریں