خدا پر اشعار: اس کی عظمت کی تعریف، اس کی نعمتوں کا شکر اور شاعر کے سوال اور شکوے۔
14 اشعار · 9 شعرا
جس نے اس دور کے انسان کیے ہیں پیدا وہی میرا بھی خدا ہو مجھے منظور نہیں
اب تو انسان کی عظمت بھی کوئی چیز نہیں لوگ پتھر کو خدا مان لیا کرتے تھے
آؤ اک سجدہ کریں عالم مدہوشی میں لوگ کہتے ہیں کہ ساغرؔ کو خدا یاد نہیں
قیامت تک سجدے میں رہے سَر میرا اے خدا کے تیری نعمتوں کے شکر كے لیے یہ زندگی کافی نہیں
گھبرا کے آسماں کی طرف دیکھتی تھی خلق جیسے خدا زمین پہ موجود ہی نہ تھا
میں کیسے مان لوں كے کوئی میرا نہیں رہا جب تک خدا کی ذات ہے تنہا نہیں ہوں میں
سودا گری نہیں یہ عبادت خدا کی ہے اے بے خبر جزا کی تمنا بھی چھوڑ دے
نہیں سجدے کیے ہَم نے کبھی غیروں کی چوکھٹ پر ہمیں جس کی ضرورت ہو خدا سے مانگ لیتے ہیں
عقل میں جو گھر گیا لا انتہا کیوں کر ہوا جو سما میں آ گیا پھر وہ خدا کیوں کر ہوا
گواہی کیسے ٹوٹتی معاملہ خدا کا تھا مرا اور اس کا رابطہ تو ہاتھ اور دعا کا تھا
چل دئیے سوئے حرم کوئے بتاں سے مومنؔ جب دیا رنج بتوں نے تو خدا یاد آیا
اب تو جاتے ہیں بت کدے سے میرؔ پھر ملیں گے اگر خدا لایا
بتوں سے تجھ کو امیدیں خدا سے نو امیدی مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے
حیرت ہے تم کو دیکھ کے مسجد میں اے خمارؔ کیا بات ہو گئی جو خدا یاد آ گیا