نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا

mirza-ghalib-ghazal

نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا

ہوا جب غم سے یوں بے حس تو غم کیا سر کے کٹنے کا
نہ ہوتا گر جدا تن سے تو زانو پر دھرا ہوتا

ہوئی مدت کہ غالبؔ مر گیا پر یاد آتا ہے
وہ ہر اک بات پر کہنا کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا

وہ بے حجاب جو کل پی کے شراب آیا

وہ بے حجاب جو کل پی کے شراب آیا
اگرچہ مست تھا میں ، پر مجھے حجاب آیا

ادھر خیال میرے دِل میں زلف کا گزرا
اُدھر وہ کھاتا ہوا دِل میں پیچ و تاب آیا

خیال کس کا سمایا ہے دیدہ و دِل میں
نہ دن کو چین مجھے اور نہ شب کو خواب آیا