نم ہے پلکیں تیری اے موج ہوا رات كے ساتھ
نم ہے پلکیں تیری اے موج ہوا رات كے ساتھ
کیا تجھے بھی کوئی یاد آتا ہے برسات كے ساتھ
نم ہے پلکیں تیری اے موج ہوا رات كے ساتھ
کیا تجھے بھی کوئی یاد آتا ہے برسات كے ساتھ
چل بولیا ہون اوتھے چلئے جتھے سارے انے
نہ کوئی سانو پہچانے نہ کوئی سانو مَنّے
بے حس ہیں یہاں لوگ بھلا سوچ كے کرنا
اِس دور میں لوگوں سے وفا سوچ كے کرنا
گل شاخ سے بچھڑے تو کہیں کا نہیں رہتا
تم ذات میری خود سے جدا سوچ كے کرنا
میرے صبر کی انتہا کیا پوچھتے ہو فراز
وہ مجھ سے لپٹ كے رویا کسی اور كے لیے
پاگل پن کی ساری لکیریں میرے ہاتھ میں کیوں
جس کو چاہوں ، میں ہی چاہوں ، میں ہی چاہوں کیوں
موسیٰ صفت تھا کوئی تو کی بات طور کی
عاشق کو سوجتی ہیں محبت میں دور کی
ہر روز ان كے کوچی میں دیتا ہوں یہ صدا
مہندی فرید آباد کی ، میتھی قصور کی
ریت ہی ریت ہے اِس دِل میں مسافر میرے
اور یہ صحرا تیرا نقش کفِ پا چاہتا ہے
وہ جو دودھ شہد کی کھیر تھی
وہ جو نرم مثلِ حریر تھی
وہ جو آملے کا اچار تھا
وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا
تمھیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو