شاخ سے پھول کو پھر جدا کر دیا

hasan-nizami-shayari

شاخ سے پھول کو پھر جدا کر دیا
زخم پیڑوں کا کس نے ہرا کر دیا

ایک ٹکڑا خوشی کا تھا رکھا ہوا
جانے کس بات نے غمزدہ کر دیا

کیوں تعلق کی بنیاد ڈھنے لگی
بے یقینی کو کس نے کھڑا کر دیا

پہلے منزل دکھائی مجھے اور پھر
بند چاروں طرف راستہ کر دیا

وقت خود اپنے چہرے سے ڈر جائے گا
میں نے احساس کو آئینہ کر دیا

کون خوش فہمیاں پالتا روز و شب
شکر سے زندگی نے رہا کر دیا

وقت نے چال کیسی چلی اے حسن
دوست جیسے کو دشمن نما کر دیا

تبصرہ کریں