روز تاروں کو نمائش میں خلل پڑتا ہے

roz taaron ko rahat indori

روز تاروں کو نمائش میں خلل پڑتا ہے
چاند پاگل ہے اندھیرے میں نکل پڑتا ہے

ایک دیوانہ مسافر ہے مری آنکھوں میں
وقت بے وقت ٹھہر جاتا ہے چل پڑتا ہے

اپنی تعبیر کے چکر میں مرا جاگتا خواب
روز سورج کی طرح گھر سے نکل پڑتا ہے

روز پتھر کی حمایت میں غزل لکھتے ہیں
روز شیشوں سے کوئی کام نکل پڑتا ہے

اس کی یاد آئی ہے سانسو ذرا آہستہ چلو
دھڑکنوں سے بھی عبادت میں خلل پڑتا ہے

تبصرہ کریں