اے بچپن تجھے یا د ہے

اے بچپن تجھے یا د ہے
تیرا وہ یوں روتے روتے مسکرا دینا تجھے یاد ہے۔
کیسے کروں میں بیاں تجھ کو
تو اک حسین پل کیسے معمور ہوا تجھے یاد ہے۔
ہوتی اگر خواہش تو پا لینے کا جزبہ
پھر وہ خوشی سے میسر یا ضد تجھے یاد ہے۔
تو اتنا حسیں ! سر سے قدم تلک جھلک میں
تو اتنا خاموش جسے اندیشہ زوال نہ تھا تجھے یاد ہے۔
اشک !اشک آنکھوں میں کب آئیں کوئ خبر نہیں
دل سے کب رخصت ہوئ کوئ خوائش تجھے یاد ہے۔
ایس چہرہ پر نور تھا گویا شمع تھی روشن
رتبہ حسن میں شمس و قمر سے بالا تر تجھے یاد ہے۔
غم کی کوئ زبان نہ تھی
جیسےزخموں کا کوئ پیمانہ نہ تھا تجھے یاد ہے۔
وہ بارش میں کاغذ کی کشتی بنا نا، ڈبونا
تمہاری خوشی پھولے نہ سماتی تجھے یاد ہے۔
کتنا نادان و معصوم تھا تو
کیسے گل سے خار ہوا تجھے یاد ہے۔
تھا اپنا ہوا پرایا دیکھ اے بچپن
کیسے چھینا تجھ سے تیرا بچپن تجھے یاد ہے۔
خواب تھا یا خیال تھا
کیسےآنکھوں سے اوجھل ہوا تجھے یاد ہے۔
مدت ہوئ بچپن کو الوداع کیئے
کیسے جوان ہوے! کیسے مصیبتوں نے گھیرا تجھے یاد ہے۔
جب سےپڑئ زمہ داری تجھ پہ
ہر راہ نئ منزل ! کٹھن سفر تھا تجھے یاد ہے۔
خبر نہیں سفر خاک میں کہاں کہاں ہوں میں
کہیں اندھیرے تو کہیں اجالے تجھے یاد ہے۔
شہر سارا سو رھا ہے مگر کسی کو احساس تک نہیں
کوئ لپٹا ہے درد میں تو کوئ پر سکون !تجھے یاد ہے۔
کوئ آتا ہے ! کوئ چلا جاتا ہے ! ہے سفر رواں دواں
کوئ میزباں ہے! تو کوئ مہماں تجھے یاد ہے۔
ہیں رشتے سبھی مفاد کے جیسے ازل سے چلا آ رہا ہے
پھر وہ یوسف کے بھائ ہوں! یا اب کا بنی نوع انسان تجھے یاد ہے۔
ہیں ادب کے تقاضے یہئ
کہ بنت حوا کی کوئ قدر نہیں تجھے یاد ہے۔
نکلے تھے باہر چلنے کو شانہ بشانہ
تو اچھالی گئ عزت! جیسے کوئ عزت اپنی اپنی نہ تھی تجھے یاد ہے۔
مر گیا ضمیر یا ڈر نہ تھا خدا کا
پیشہ ور تھے ہم! یا علم ادب کے فقت تاجر تجھے یاد ہے۔
چلتے چلتے گزار دی یوں زندگی اپنی
کہیں خیال تک نہ آیا کہ جھانک لے گریباں اپنا تجھے یاد ہے۔
تھک ہار کر سلوٹیں ڈل گئ چہروں پر
کیسے زندگی نے اک اور چراغ گل کیا تجھے یاد ہے۔
پلک جھپکتے اجاڑ دی اپنی دنیا
اسد
وہ بستیاں جنہیں بسانے میں کئ زمانے لگے تجھے یاد ہے۔

guest
0 Comments
Inline Feedbacks
تمام تبصرے دیکھیں