-
کچھ اشارے تھے جنہیں دنیا سمجھ بیٹھے تھے ہم اس نگاہ آشنا کو کیا سمجھ بیٹھے تھے ہم
-
رفتہ رفتہ غیر اپنی ہی نظر میں ہو گئے واہ ری غفلت تجھے اپنا سمجھ بیٹھے تھے ہم
-
ہوش کی توفیق بھی کب اہل دل کو ہو سکی عشق میں اپنے کو دیوانہ سمجھ بیٹھے تھے ہم
-
پردۂ آزردگی میں تھی وہ جان التفات جس ادا کو رنجش بے جا سمجھ بیٹھے تھے ہم
-
کیا کہیں الفت میں راز بے حسی کیوں کر کھلا ہر نظر کو تیری درد افزا سمجھ بیٹھے تھے ہم
-
بے نیازی کو تری پایا سراسر سوز و درد تجھ کو اک دنیا سے بیگانہ سمجھ بیٹھے تھے ہم
-
انقلاب پے بہ پے ہر گردش و ہر دور میں اس زمین و آسماں کو کیا سمجھ بیٹھے تھے ہم
-
بھول بیٹھی وہ نگاہ ناز عہد دوستی اس کو بھی اپنی طبیعت کا سمجھ بیٹھے تھے ہم
-
صاف الگ ہم کو جنون عاشقی نے کر دیا خود کو تیرے درد کا پردا سمجھ بیٹھے تھے ہم
-
کان بجتے ہیں محبت کے سکوت ناز کو داستاں کا ختم ہو جانا سمجھ بیٹھے تھے ہم
-
باتوں باتوں میں پیام مرگ بھی آ ہی گیا ان نگاہوں کو حیات افزا سمجھ بیٹھے تھے ہم
-
اب نہیں تاب سپاس حسن اس دل کو جسے بے قرار شکوۂ بیجا سمجھ بیٹھے تھے ہم
-
ایک دنیا درد کی تصویر نکلی عشق کو کوہکن اور قیس کا قصہ سمجھ بیٹھے تھے ہم
-
رفتہ رفتہ عشق مانوس جہاں ہوتا چلا خود کو تیرے ہجر میں تنہا سمجھ بیٹھے تھے ہم
-
حسن کو اک حسن ہی سمجھے نہیں اور اے فراقؔ مہرباں نامہرباں کیا کیا سمجھ بیٹھے تھے ہم


