مواد پر جائیں
SadPoetry
گو پر تو نہیں پھر بھی آزاد نہیں کرنا — رشید حسرت

گو پر تو نہیں پھر بھی آزاد نہیں کرنا

رشید حسرت غزل 9 اشعار
  1. گو پر تو نہیں پھر بھی آزاد نہیں کرنا نا شاد رکھو مجھ کو تم شاد نہیں کرنا

  2. قد کاٹھ اگر دو گے، سمجُھوں گا تمہیں بونا بونا ہی رکھو مجھ کو شمشاد نہیں کرنا

  3. تم عام سی لڑکی ہو، میں عام سا لڑکا ہوں شیریںؔ نہ سمجھ بیٹھو، فرہادؔ نہیں کرنا

  4. ایسے نہ اجڑ جانا دیکھو تو کہیں تم بھی بستی ہی کوئی دل کی آباد نہیں کرنا

  5. جو ذہن کے ریشوں میں رچ بس کے رہا اس سے کیسے یہ کروں وعدہ اب یاد نہیں کرنا

  6. اس شہر کے حاکم نے یہ حکم کیا جاری کچھ بھی ہو کوئی ہرگز فریاد نہیں کرنا

  7. بس ایک انا پائی، گھر اپنا لُٹا بیٹھے اے بیٹیو! اے بیٹو! اضداد نہیں کرنا

  8. تہذیب بتا دے گی، تم کتنے مہذب ہو ظاہر ہی کسی پر تم اسناد نہیں کرنا

  9. کُچھ وقت کبھی ہم نے اِک ساتھ گُزارا ہے اب جور و جفا حسرتؔ، بے داد نہیں کرنا

ارسال کنندہ Rasheed Hasrat

تصحیح بتائیں

رشید حسرت کا مزید کلام

تمام کلام