-
گو پر تو نہیں پھر بھی آزاد نہیں کرنا نا شاد رکھو مجھ کو تم شاد نہیں کرنا
-
قد کاٹھ اگر دو گے، سمجُھوں گا تمہیں بونا بونا ہی رکھو مجھ کو شمشاد نہیں کرنا
-
تم عام سی لڑکی ہو، میں عام سا لڑکا ہوں شیریںؔ نہ سمجھ بیٹھو، فرہادؔ نہیں کرنا
-
ایسے نہ اجڑ جانا دیکھو تو کہیں تم بھی بستی ہی کوئی دل کی آباد نہیں کرنا
-
جو ذہن کے ریشوں میں رچ بس کے رہا اس سے کیسے یہ کروں وعدہ اب یاد نہیں کرنا
-
اس شہر کے حاکم نے یہ حکم کیا جاری کچھ بھی ہو کوئی ہرگز فریاد نہیں کرنا
-
بس ایک انا پائی، گھر اپنا لُٹا بیٹھے اے بیٹیو! اے بیٹو! اضداد نہیں کرنا
-
تہذیب بتا دے گی، تم کتنے مہذب ہو ظاہر ہی کسی پر تم اسناد نہیں کرنا
-
کُچھ وقت کبھی ہم نے اِک ساتھ گُزارا ہے اب جور و جفا حسرتؔ، بے داد نہیں کرنا
ارسال کنندہ Rasheed Hasrat


