-
دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں
-
زندہ ہوں مگر زیست کی لذت نہیں باقی ہرچند کہ ہوں ہوش میں ہشیار نہیں ہوں
-
اس خانۂ ہستی سے گزر جاؤں گا بے لوث سایہ ہوں فقط نقش بہ دیوار نہیں ہوں
-
افسردہ ہوں عبرت سے دوا کی نہیں حاجت غم کا مجھے یہ ضعف ہے بیمار نہیں ہوں
-
وہ گل ہوں خزاں نے جسے برباد کیا ہے الجھوں کسی دامن سے میں وہ خار نہیں ہوں
-
یا رب مجھے محفوظ رکھ اس بت کے ستم سے میں اس کی عنایت کا طلب گار نہیں ہوں
-
گو دعوی تقوی نہیں درگاہ خدا میں بت جس سے ہوں خوش ایسا گنہ گار نہیں ہوں
-
افسردگی و ضعف کی کچھ حد نہیں اکبرؔ کافر کے مقابل میں بھی دیں دار نہیں ہوں


