-
بس ایک بار کسی نے گلے لگایا تھا پھر اس کے بعد نہ میں تھا نہ میرا سایا تھا
-
گلی میں لوگ بھی تھے میرے اس کے دشمن لوگ وہ سب پہ ہنستا ہوا میرے دل میں آیا تھا
-
اس ایک دشت میں سو شہر ہو گئے آباد جہاں کسی نے کبھی کارواں لٹایا تھا
-
وہ مجھ سے اپنا پتا پوچھنے کو آ نکلے کہ جن سے میں نے خود اپنا سراغ پایا تھا
-
مرے وجود سے گلزار ہو کے نکلی ہے وہ آگ جس نے ترا پیرہن جلایا تھا
-
مجھی کو طعنۂ غارت گری نہ دے پیارے یہ نقش میں نے ترے ہاتھ سے مٹایا تھا
-
اسی نے روپ بدل کر جگا دیا آخر جو زہر مجھ پہ کبھی نیند بن کے چھایا تھا
-
ظفرؔ کی خاک میں ہے کس کی حسرت تعمیر خیال و خواب میں کس نے یہ گھر بنایا تھا


