بارشوں کے موسم میں

sad-nazam-barish

بارشوں کے موسم میں
وه جو اپنے کمرے کی
کهڑکیوں کو بند کر کے
بادلوں کے جانے کا
انتظار کرتے ہیں
وه بهی اک زمانے میں
بارشوں کی بوندوں سے
کهیلتے رہے ہوں گے
چودهویں کی راتوں میں
جلد سونے والوں کی
چاندنی سے ماضی میں
دوستی رہی ہو گی
حسن و عشق کی باتیں
آج واسطے جن کے
کچھ وقعت نہیں رکهتیں
بهولے بسرے لمحوں میں
ٹوٹ کر کسی کو وه
چاہتے رہے ہوں گے
وه جو اپنے غم پر بهی
آنکھ نم نہیں کرتے
کل کسی کی خاطر وه
خوب رو چکے ہوں گے
درد آشنا ہو کر
اشک کهو چکے ہوں گے

تبصرہ کریں