مواد پر جائیں
SadPoetry
غمزہ نہیں ہوتا کہ اشارا نہیں ہوتا — اکبر الہ آبادی

آنکھ ان سے جو ملتی ہے تو کیا کیا نہیں ہوتا

اکبر الہ آبادی غزل 6 اشعار
  1. غمزہ نہیں ہوتا کہ اشارا نہیں ہوتا آنکھ ان سے جو ملتی ہے تو کیا کیا نہیں ہوتا

  2. جلوہ نہ ہو معنی کا تو صورت کا اثر کیا بلبل گل تصویر کا شیدا نہیں ہوتا

  3. اللہ بچائے مرض عشق سے دل کو سنتے ہیں کہ یہ عارضہ اچھا نہیں ہوتا

  4. تشبیہ ترے چہرے کو کیا دوں گل تر سے ہوتا ہے شگفتہ مگر اتنا نہیں ہوتا

  5. میں نزع میں ہوں آئیں تو احسان ہے ان کا لیکن یہ سمجھ لیں کہ تماشا نہیں ہوتا

  6. ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا

تصحیح بتائیں

اکبر الہ آبادی کا مزید کلام

تمام کلام