اِس سے پہلے كہ سال کی آخری شام تمام ہو

اِس سے پہلے كہ سال کی آخری شام تمام ہو
اور تو بھی مصروف نو ایام ہو
اِس سے پہلے کہ میں زیست گروی رکھ دوں
کسی اور کے پاس
اِس سے پہلے کہ تیرے ھاتھوں کا لمس
تیرے لبوں کی مسیحائی اور تیرے لہجے کی پزیرائی
ہار دوں کہیں اور
مانا دوست کہ ہجر تو اب مقدر ٹھہرا
مگر اِس سے پہلے کہ ہَم بچھڑ جائیں
ہماری راہیں مخالف سمٹ میں مڑ جائیں
اک بار یوں آنكھوں میں آنکھیں ڈالو كے وقت تھم جائے
اور تمہارا عکس ہمیشہ كے لیے پتلی میں جام جائے
آؤ وقت كے دامن سے محبت كے چند لمحے چرا کر
کہیں چھپا لیں
صحرائےزیست میں جب بھی بگولے اُٹھائیں
پِھر ان امر لمحوں کی چادر اوڑھ کر ہَم
حالات كی ریت سے اپنی آنکھیں چھپا لیں

تبصرہ کریں