جیا دھڑکے پر جیا نہ جائے

jia-dharkay11

جیا دھڑکے پر جیا نہ جائے
الزام محبت کو دیا نہ جائے
کام بھولے سجدے قضا ہوئے
پیار کر کے کچھ کیا نہ جائے
تیرا خیال بے خیال کر دے
کوئی زخم بھی سیا نہ جائے
اُداسی کے سبب کیسے بتائیں
تیرا نام بھی لیا نہ جائے
تاب وصل کی لائی نہ جائے
زہر فراق پِیا نہ جائے
وہ جینے نہیں دیتا مجھے
انجم جس بن جیا نہ جائے

تبصرہ کریں