مواد پر جائیں
SadPoetry
ایسا نہیں کہ ہم کو محبت نہیں مِلی​ — اعتبار ساجد

ایسا نہیں کہ ہم کو محبت نہیں مِلی​

اعتبار ساجد غزل 9 اشعار
  1. ایسا نہیں کہ ہم کو محبت نہیں مِلی​ ہم جیسی چاہتے تھے وہ قُربت نہیں مِلی​

  2. ​ ملنے کو زندگی میں کئی ہمسفر ملے​

  3. لیکن طبیعتوں سے طبیعت نہیں ملی​ ​

  4. چہروں کے ہر ہجوم میں ہم ڈُھونڈتے رہے صُورت نہیں ملی کہیں سیرت نہیں ملی​

  5. ​ وہ یک بیک ملا تو بہت دیر تک ہمیں​

  6. الفاظ ڈُھونڈنے کی بھی مُہلت نہیں ملی​ ​

  7. اُس کو گِلہ رہا کہ توجہ نہ دی اُسے​ لیکن ہمیں خُود اپنی رفاقت نہیں ملی​

  8. ​ ہر شخص زندگی میں بہت دیر سے مِلا​

  9. کوئی بھی چیز حسبِ ضرُورت نہیں ملی​

تصحیح بتائیں

اعتبار ساجد کا مزید کلام

تمام کلام