-
کہاں قاتل بدلتے ہیں فقط چہرے بدلتے ہیں عجب اپنا سفر ہے فاصلے بھی ساتھ چلتے ہیں
-
بہت کم ظرف تھا محفلوں کو کر گیا ویراں نہ پوچھوحال یاراں شام کوجب سائے ڈھلتے ہیں
-
وہ جسکی روشنی کچے گھروں تک بھی پہنچتی ہے نہ وہ سورج نکلتا ہے نہ اپنے دن بدلتے ہیں



