کبھی آنسو کبھی خوشبو کبھی نغمہ بن کر

کبھی آنسو کبھی خوشبو کبھی نغمہ بن کر
ہم سے ہر شام ملی ہے تیرا چہرہ بن کر

چاند نکلا ہے تیری آنکھ کے آنسو کی طرح
پھول مہکے ہیں تیری زلف کا سایہ بن کر

میری جاگی ہوئی راتوں کو اسی کی ہے تلاش
سورہا ہے میری آنکھوں میں جو سپنا بن کر

دل کے کاغذ پر اترتا ہے تو شعروں کی طرح
میرے ہونٹوں پہ مچلتا ہے تو نغمہ بن کر

رات بھی آئے تو بجھتی نہیں چہرے کی چمک
روح میں پھیل گیا ہے جو اجالا بن کر

میرا کیا حال ہے یہ آکہ کبھی دیکھ تو لے
جی رہا ہوں تیرا بھولا ہوا وعدہ بن کر

دھوپ میں کھوگیا وہ ہاتھ چھڑا کر راشد
گھر سے تو ساتھ چلا تھا میرا سایہ بن کر

تبصرہ کریں