-
ذخمی ہے دل مگر دوا کی طلب نہیں خوشی گوارا نہیں ہاں کسی سبب نہیں
-
ملیے مگر ذرا کترا کر ملیں حضور اب منکرِوفا ہوں وہی باآدب نہیں
-
مرتے ہیں روز کئی لوگ راہِ وفا میں یوں اُنکی قبر پر کوئی نام نہیں کتبہ نصب نہیں
-
میں تھا اور تھی ساتھ تیری یاد مسلسل کہہ دوں کہ تو ہی ساتھ تھا تو یہ عجب نہیں
-
ہم کلامی کو کہتے ہیں کبیرہ گناہ اُنکی نظر جو ڈھائے ستم وہ غضب نہیں
-
سہہ لوں گا نعمانؔ جیتنے بھی وار ہوں جسم پر مگر آنکھ سے نہیں دل کی ضرب نہیں
ارسال کنندہ Numan Ijaz


