یہ بھی فخر ہے كے کسی نے وفا کی

aamir imtiaz ghazal

یہ بھی فخر ہے كے کسی نے وفا کی
بن گیا میرا میرے زخموں کی دوا کی

بھلا ہی دیئے مجھے اس نے دکھ سبھی
بن كے ملا ہے مجھ کو نعمت خدا کی

میں نے بھی مانگا اسے خدا سے
اس نے بھی میرے لیے دعا کی

گلاب بھی خوب ہے لیکن مجھے ہے پسند
مہک اس كے ہاتھوں کی حنا کی

بن گیا وہ میرا دِل سے عامر
محبت کی ہر اک رسم اس نے ادا کی

تبصرہ کریں