کسی سے اپنا یارانہ نہیں رہا

pyar-ghazal2

کسی سے اپنا یارانہ نہیں رہا
یہاں کوئی یار پرانا نہیں رہا

خانہ بدوشوں جیسی ہے زندگانی
کسی دل میں اب ٹھکانا نہیں رہا

پیار كے بدلے سدا نفرت ملی ہے
اب میرا مزاج عاشقانہ نہیں رہا

آج کل اس کا کوئی پیغام نہیں آیا
شاید اس کا عشق بھی باغیانہ نہیں رہا

سوچتا ہوں اس سے کیسے ملنے جاؤں
میرے پاس بھی کوئی بہانہ نہیں رہا

تبصرہ کریں