ساقی نہ پلا ، بھر بھر كے

ساقی نہ پلا ، بھر بھر كے
مجھے مے سے سروکار نہیں

آتا ہوں پینے ، نگاہوں سے
رند ہوں ، بادہ خار نہیں

ہر بات میں فاعدے کی بات کرتے ہو
یہ عشق ہے میری جان ، کاروبار نہیں

میں جان بوجھ كے تیری باتوں میں آجاتا ہوں
جتنا سمجھتے ہو ، تم اتنے ہوشیار نہیں

تیری چاہ میں تیرے دام بک گئے ورنہ
اتنے ارزاں تو میرے گیسو تابدار نہیں

وہ دن گئے جب دِل میں بسا کرتے تھے
اب میری آنکھوں کو ، تیرا انتظار نہیں

کیوں خود کو برباد کر رہے ہو ساحل
تم جانتے ہو ، كے وہ وفا دار نہیں

تبصرہ کریں