انکی تیکھ نگاہیں دیکھ

انکی تیکھ نگاہیں دیکھ ، میں نے کیا سَر جھکا دیا
خدا کو خدا سمجھ بیٹھے ، مشرک مجھے بنا دیا

اب کہتے ہیں مجھ کو سجدہ کرو ، پر انکی کوئی خطا نہیں
تھی میرے عشق کی انتہا ، عرش پر انہیں بٹھا دیا

کس نے کہا تھا تمہیں ، بے حجاب ملنے آیا کرو
پہلے تو صرف عاشق تھا ، دیوانا مجھے بنا دیا

اپنے عشق کی داستان ، تھوڑی عجیب و غریب ہے
خود تو وہ لیلی بن نہ سکی ، اور مجنوں مجھے بنا دیا

ساحل کو الزام نہ دو ، ساحل کی خطا نہیں
تیرے ہی تقبر نے ، نظر سے تجھے گرا دیا

تبصرہ کریں