-
معاشرے کی بندشوں نے ہمیں ناکارہ کر دیا تمہیں کسی اور کا اور ہمیں تمہارا کردیا
-
تو خود تو ہو گئی پاکیزگی کا پیکر لوگوں کے سامنا ہمیں آوارہ کر دیا
-
اب کچھ نہیں بچا اس حقیر کی جھولی میں دل ہی تھا وہ بھی تیرے نام سارا کا سارا کر دیا
-
تیری بے وفائی کی میں کیا داد دوں کہ مجھے بھی ساتھ رکھا اور اسے بھی اشارہ کر دیا
-
اس نے محبت کی یہ کہانی بنا کر انس عاشق اور عشق دونوں کو بے سہارا کر دیا
ارسال کنندہ Muhammad Anas


