شعر Read in Roman Urdu & English تُم جی کر دیکھ لو حقیقتوں کی گہری وادیوں میں میرے لئیے تو خوابوں کا شہر ہی کافی ہے ارسال کنندہ Khawaja Usman bhl تصحیح بتائیں → پچھلاملبوس خوش نما ہیں مگر جسم کھوکھلے اگلا ←ہم حقیقت ہیں تو تسلیم نہ کرنے کا سبب مزید اداس شاعریسب دیکھیں کبھی وقت ملے تو آجاؤپوری نظم پڑھیں کبھی جو زندگی کا گوشوارہ دیکھتا ہوں میںپورا شعر پڑھیں نجانے مُجھ سے کیا پُوچھا گیا تھاپوری غزل پڑھیںرشید حسرت