-
کیوں پوچھتا ہے مجھ سے یہ ان گنت سوال جب بھی آتا ہے میرے دِل میں یوں تیرا خیال
-
کیوں کر گیا منتظر ، کیا جینا میرا مُحال جب بھی آتا ہے میرے دِل میں یوں تیرا خیال
-
کیوں تَخیُّر میں نہ لایا کے بن گیا جان وبال جب بھی آتا ہے میرے دِل میں یوں تیرا خیال
-
کیوں کر نہ پایا رسوا مجھے ، تھی کیا میری مجال جب بھی آتا ہے میرے دِل میں یوں تیرا خیال
-
کیوں کر بھلا دو میں تیری وہ باتیں تھی باکمال جب بھی آتا ہے میرے دِل میں یوں تیرا خیال
-
کیوں کر نہ دیکھ پاتا ہوں کہیں اور تجھ جیسا جمال جب بھی آتا ہے میرے دِل میں یوں تیرا خیال
-
کیوں کر نہ ہو رشک مجھے وہ یادیں ہے بے مثال جب بھی آتا ہے میرے دِل میں یوں تیرا خیال
-
کیوں چاہا اِس قدر محسن كے اب ہو رہا ملال جب بھی آتا ہے میرے دِل میں یوں تیرا خیال
ارسال کنندہ Mohsen Iqbal


