شعر Read in Roman Urdu & English نہ کوئی وعدہ نہ کوئی یقیں نہ کوئی امید مگر ہمیں تو ترا انتظار کرنا تھا تصحیح بتائیں → پچھلامیں مدتوں جیا ہوں کسی دوست کے بغیر اگلا ←سنتے ہیں عشق نام کے گزرے ہیں اک بزرگ فراق گورکھپوری کا مزید کلامتمام کلام اب تو ان کی یاد بھی آتی نہیںپورا شعر پڑھیں رات بھی نیند بھی کہانی بھیپورا شعر پڑھیں تری نگاہ سہارا نہ دے تو بات ہے اورپورا شعر پڑھیں