-
تصویر آئی ذھن میں جب اس جناب کی راتوں کو جاگ جاگ کے نیندیں خراب کی
-
ان نیم باز آنکھوں کی مستی میں مست ہوں مجھ کو نہیں ہے کوئی ضرورت شراب کی
-
بے چین دل کو میرے سکوں اے کس طرح اف وہ جمال یار، یہ عمریں شباب کی
-
میری محبتوں کا نہ ان پہ اثر ہوا میں راہ دیکھتا رہا انکے جواب کی
-
یہ فلسفہ ہے میری محبت کا دوستوں جس سے بھی کی خدا کی قسم بے حساب کی
-
دیدار حسن، جلوہ، تبسم، جمال یار یہ سب دواییاں ہے دل اضطراب کی
-
قتل و فساد،خون کے چھینٹیں ہے ہر طرف یہ کسنے میرے ہند کی حالت خراب کی
-
پھر سے آزاد ھویگا ہندوستان میرا آواز اٹھ رہی ہے سنو انقلاب کی
-
طالب لکھا ہے میں نے جو لفظوں کی شکل میں یہ داستان عشق ہے میری کتاب کی
ارسال کنندہ Talib jaunpuri


