تصویر آئی ذھن میں جب اس جناب کی

تصویر آئی ذھن میں جب اس جناب کی
راتوں کو جاگ جاگ کے نیندیں خراب کی

ان نیم باز آنکھوں کی مستی میں مست ہوں
مجھ کو نہیں ہے کوئی ضرورت شراب کی

بے چین دل کو میرے سکوں اے کس طرح
اف وہ جمال یار، یہ عمریں شباب کی

میری محبتوں کا نہ ان پہ اثر ہوا
میں راہ دیکھتا رہا انکے جواب کی

یہ فلسفہ ہے میری محبت کا دوستوں
جس سے بھی کی خدا کی قسم بے حساب کی

دیدار حسن، جلوہ، تبسم، جمال یار
یہ سب دواییاں ہے دل اضطراب کی

قتل و فساد،خون کے چھینٹیں ہے ہر طرف
یہ کسنے میرے ہند کی حالت خراب کی

پھر سے آزاد ھویگا ہندوستان میرا
آواز اٹھ رہی ہے سنو انقلاب کی

طالب لکھا ہے میں نے جو لفظوں کی شکل میں
یہ داستان عشق ہے میری کتاب کی

تبصرہ کریں