-
سوچتا ہوں وه اب کسے خفا کرتی ہوگی میری طرح مجبوریوں سے وفا کرتی ہوگی
-
جب تک شامل ہوں اس کی آرزوء میں مجھے یقین ہے وہ زندگی کی دعا کرتی ہوگی
-
آئینہ طنز کرتا ہوگا آنکھیں بھر آتی ہوگیں وہ جب مجبوریوں میں سجا کرتی ہوگی
-
میں بھی یاد آتا ہونگا اسے جب کبھی وہ پھر ویراں راستوں کو تکا کرتی ہوگی
-
اتنا تو واقف ہوں میں اس کے مزاج سے میرے نام پر گھر والوں سے لڑا کرتی ہوگی
-
روتا ہوں شب بھر اس کی تصویر دیکھ کے وہ بھیگی آنکھوں سے خواب دیکھا کرتی ہوگی
-
وہ دارِ ضبط میں یوں بھی سرِ شام کہیں آنسو کی برف سے اکثر جلا کرتی ہوگی
-
رکھتی ہوگی آج بھی وہی پیاس لبوں پے رسمِ دنیا میں ہونٹوں سے دغا کرتی ہوگی
-
مدتوں پہلے تجھ سے بچھڑی ہوی لڑکی احسن اب بھی تجھے ہر موڑ پے سنبھالا کرتی ہوگی
ارسال کنندہ Ahsin Fayaz


