سوچتا ہوں وه اب کسے خفا کرتی ہوگی

urdu ghazal

سوچتا ہوں وه اب کسے خفا کرتی ہوگی
میری طرح مجبوریوں سے وفا کرتی ہوگی

جب تک شامل ہوں اس کی آرزوء میں
مجھے یقین ہے وہ زندگی کی دعا کرتی ہوگی

آئینہ طنز کرتا ہوگا آنکھیں بھر آتی ہوگیں
وہ جب مجبوریوں میں سجا کرتی ہوگی

میں بھی یاد آتا ہونگا اسے جب کبھی
وہ پھر ویراں راستوں کو تکا کرتی ہوگی

اتنا تو واقف ہوں میں اس کے مزاج سے
میرے نام پر گھر والوں سے لڑا کرتی ہوگی

روتا ہوں شب بھر اس کی تصویر دیکھ کے
وہ بھیگی آنکھوں سے خواب دیکھا کرتی ہوگی

وہ دارِ ضبط میں یوں بھی سرِ شام کہیں
آنسو کی برف سے اکثر جلا کرتی ہوگی

رکھتی ہوگی آج بھی وہی پیاس لبوں پے
رسمِ دنیا میں ہونٹوں سے دغا کرتی ہوگی

مدتوں پہلے تجھ سے بچھڑی ہوی لڑکی احسن
اب بھی تجھے ہر موڑ پے سنبھالا کرتی ہوگی

guest
0 Comments
Inline Feedbacks
تمام تبصرے دیکھیں