شکوہ کوئی دریا کی روانی سے نہیں ہے

meri pyas aur paani

شکوہ کوئی دریا کی روانی سے نہیں ہے
رشتہ ہی مری پیاس کا پانی سے نہیں ہے

تبصرہ کریں