سچ کو پھیلا کر جھوٹ کو مٹاتا رہوں گا

سچ کو پھیلا کر جھوٹ کو مٹاتا رہوں گا
حق کے لیے لڑ کر باطل کو ہراتا رہوں گا

برائی سے بچو گا خود دوسروں کو بھی بچاؤں گا
نیک کام کروں گا اچھائی پھیلاتا رہوں گا

مجھ سے نفرت کرکے تم میرا کچھ نہیں بیگاڑ سکتے
تلخ باتیں سہہ جاؤں گا مسکراتا رہوں گا

اگر کوئی میری عزت کو للکارے گا
صبر کا دامن تھام کر اللہ کو پکارتا رہوں گا

دوستوں سے محبت کروں گا جب تک دوست رہیں
منافقوں سے جان اپنی چھڑواتا رہوں گا

ظالم پہ قہر بنوں گا ظلم کیخلاف لڑوں گا میں
یہ بھول ہے تمہاری کہ میں ظلم سہتا رہوں گا

حق اللہ ہے حق اونچا ہے آخر حق کی جیت ہے عاطف
باطل کفر ہے کفر  گمراہ ہے کفر کو آگ لگاتا رہوں گا

تبصرہ کریں